غازی پور،22؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دعوؤں اور وعدوں کی ہوا نکلنے لگی ہے۔ پوری ریاست میں جس نظامِ قانون کے دم پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے عوام سے ووٹ مانگے تھے۔ اب اس نظامِ قانون پر سنگین سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ اتر پردیش کے غازی پور کے جمانیا اسمبلی حلقہ میں مبینہ چست درست نظامِ قانون کا شورش پسندوں نے اتوار کی شب کو سرعام مذاق اڑایا اور خوب ہنگامہ برپا کیا۔الزام ہے کہ دلدار نگر تھانہ حلقہ کے رکسہاں شریف گاؤں میں ایک مزار پر عرس کے دوران کچھ شرپسند گھس گئے۔ مزار شریف کے احاطہ میں یہ شورش پسند نشہ خوری کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ اس دوران عرس میں موجود خواتین کے ساتھ وہ چھیڑخانی کرنے لگے۔ جیسے ہی انتظامیہ سے جڑے ایک شخص نے یہ دیکھا تو انھوں نے منع کیا۔ اس دوران شر پسندوں نے انتظامیہ سے جڑے اس شخص کو ہی بری طرح سے پیٹ دیا، جس کے بعد زخمی شخص کو سنگین حالت میں غازی پور ریفر کرنا پڑا۔ الزام ہے کہ شرپسندوں نے مزار کے کمپاؤنڈ کو چاروں طرف سے گھیر کر جم کر پتھر بازی کی۔ پتھراؤ کے دوران مزار کے احاطہ میں لوگ جان بچانے کیلئے ادھر ادھر بھاگتے دیکھے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مزارکے احاطہ میں موجود خواتین اور بچوں کو بھی چوٹیں آئیں۔ پتھراؤ میں چار لوگ سنگین طور سے زخمی ہو گئے۔ واضح رہے کہ واقعہ اتوار کی شب تقریباً 8 بجے کا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ پتھر بازی کر رہے شرپسندوں نے مزار میں گھس کر جے شری رام کے نعرے بھی لگائے۔ شرپسند اتنے پر ہی خاموش نہیں ہوئے، لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے مزار شریف کے کمپاؤنڈ کے باہر کھڑی گاڑیوں میں جم کر توڑ پھوڑ کی۔ توڑ پھوڑ کے دوران گاڑیوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد دلدار نگر سمیت کئی تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو قابو میں کیا۔ ساتھ ہی پولیس نے زخمیوں کو اسپتال بھی پہنچایا۔